ابنا: پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیرِ اطلاعات نے سنیچر کو کہا کہ رپورٹ کی کاپی حکومت کے پاس محفوظ ہے۔پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اصل رپورٹ حکومت کی تحویل میں محفوظ ہے اور کسی غیرمجاز شخص کو اس تک رسائی نہیں ہے۔پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ رپورٹ نہ تو غائب ہوئی ہے اور نہ ہی وزیراعظم کے دفتر سے لیک ہوئی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پر مبنی جو معلومات اور تبصرے سامنے آئے ہیں وہ رپورٹ کی غیرمصدقہ، نامکمل اور مسخ شدہ شکل ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستانی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر اس رپورٹ کے بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔کمیشن کی رپورٹ کے سرکاری اجراء سے متعلق سوال پر پرویز رشید نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے اس سلسلے میں یکم فروری کو ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جسے اس رپورٹ کے مکمل یا اس کے کچھ حصے عام کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا لیکن حکومت کی میعاد ختم ہونے تک وہ یہ فیصلہ نہ کر سکی۔وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ موجودہ حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور وہ قومی مفاد میں ہی اس رپورٹ کو ریلیز کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔خیال رہے کہ دو مئی دو ہزار گیارہ کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق حقائق جاننے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے قائم کیے گئے کمیشن کی رپورٹ چند دن قبل ہی الجزیرہ ٹی وی چینل نے افشا کی تھی۔......./169
14 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 440910
پاکستان کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن ميں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق کمیشن کی رپورٹ وزیراعظم کے دفتر سے لیک نہیں ہوئی ہے۔